چادراورچار دیواری ۔تصویر کے دو رخ

مغرب کے زیر اثرعورت کی آزادی کے نام پر احتجاج کی روایت سی پڑ گئ ہے لیکن اس نام نہاد آزادی کے بہکاوے میں آتے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کتنے غیر محسوس طریقے سے یہ آزاد خیالی حرص وہوس تک کا سفر کرتی ہوئ رشتوں کو پاوں تلے روندتی گزر جاتی ھے ۔ کاش یہ نام نہاد آزادی کے علمبردارکھلی آنکھوں سےمغرب کی عورت کی حالت زار دیکھ سکیں۔اس عورت کودیکھ سکیں ،جس نے آزادی کے نام پر اپنی نسوانیت، اپنا تقدس، اپنااحترام تک گنوادیا۔اسکی نزاکت، اسکا چلبلا پن سب جاتا رھا۔مرد کی برابری کرتےہوےعورت اور مردکا فرق ہی ختم ہوگیا۔یہاں کی عورت یہ جانتی ہی نہیں کہ اس آزادی کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔اسےتوبس آزادی دکھائی جاتی ہے اور اسکے پیچھےدم توڑتی نسوانیت نہ دکھتی ہے نہ دکھائی جاتی ہے۔
لیکن ایسا کیوں ہےکہ آج ہمیں اس نام نہاد آزادی کی اتنی ضرورت محسوس ہو رہی ہے؟
اسکی وجہ ناانصافی پر مبنی وہ نظام ہے جس کا اسلام سے دور واسطے کا بھی تعلق نہیں ۔ لیکن ھم اسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ جہیز جیسی قبیح رسم کو اتنا سینچ سینچ کر رکھا گیا ہے کہ اب یہ تناور درخت بن گیا ہے، کہیں جائیداد بچانے کے لیےقرآن سے شادی کرا دی جاتی ہے تو کہیں کاروکاری کی تباہکاریاں عروج پر ہیں۔
اس کی وجہ آزادی کی چکاچوند نہیں بلکہ ھمارے معاشرے کا تضاد ہے،جہاں ایک طرف تو عورت کو کمتر درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف آزادی کے نام پر تمام اخلاقیات کا جنازہ نکال کے رکھ دیا گیا ہے۔ ایک طرف غیرت کے نام پر قتل کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف عورت شمع محفل بن کے رہ گئی ہے۔ایک طرف عورت کو آزادی تو ملتی ہے مگر عزت نہیں دوسری طرف عزت ملتی ہے مگر جوتے کی نوک پر !
دونوں طرف انتہا کو چھوتا ہوا رویہ ۔۔۔
دونوں طرف نہ توصحیح معنوں میں اسلام کو جاننے کی کوشش کی گئ نہ ہی اسے اپنی زندگی میں نافذ کی ۔سب نے اپنی اپنی مرضی کا حصہ لے لیا اور جو نہ پسند آیا اسےبصد احترام ایک جانب رکھ دیاگیا۔جو آزادی کےحامی ہیں انھوں نے وہ لے لیا جو آزادی دیتا ھے اور جہاں کسی پابندی کی بات آئی اسے نظرانداز کر دیااور جو سخت روی کے خواہشمند تھے انھوں نے سختی روا رکھی اور جہاں آسانی دی گئی تھی اسے یکسر فراموش کر گئے۔ایسے حالات میں چادر اور چاردیواری کا تصور خام خیالی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔یہ کہنا کہ عورت کو گھر تک محدود رہنا چاہیے بجا۔ لیکن جو طریقہ کار ہم اپنائے ھوئے ہیں وہ عورت کو گھر میں رہنے نہیں دیتا۔گناہ اگر عورت کر ے تو گناہگار اور اگر مرد کرے تو مرد ہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔انصاف اور اخلاق کے یہ دہرےمعیاراس بےراہروی کا باعث ہیں جو بڑھتی چلی جا رہی ہےاور روکے نہیں رکتی۔
خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیردی گئی ہیں۔گھر کے اندر کے ماحول کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔تربییت ہماری ترجیحات سے غائب ہے۔رسم و رواج نے اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ انسانیت کا احترام کرنے سے جاتے رہے۔گھر کے ماحول کو اس قابل بنانا کے وہاں رہنے کا جی چاہے، تربیت کا اہتمام، باہمی محبت ا ور رواداری ، مخالف رائےکو برداشت کرنا اور اس کا احترام جب اہم نہ رہے اور ان حالات میں جب عورت کی آزادی کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔تو چادر بوجھ لگنے لگتی ہے اور چار دیواری قید۔۔۔
عورت کو اگر صحیح معنوں میں اسکا وہ مقام دے دیا جائے جو اسلام نے اسے دیا ہے۔قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ معاشرے میں سب کی تربیت اس انداز سے ہو جو انھیں ان کا مقام بھی دے اور فرائض کا شعور بھی۔ ایسےخاندان کی تشکیل کی کوشش کی جائے جہاں بہن بھائی بہترین دوست ہوں۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوں اور ماں باپ کا سایہ سر پہ چھاوءں کرتاہوا محسوس ہو۔جہاں رشتے بوجھ نہ لگیں بلکہ تحفظ کا احساس دلائیں وہاں کون اس سراب کے پیچھے بھاگے گا جس کو ‘ آزادی‘ کا نام دیا گیا ہے؟

ChaderOrChardeewari

Advertisements

One thought on “چادراورچار دیواری ۔تصویر کے دو رخ

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s